Image
 نیب آفس حملہ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے 15 دیگر کارکنوں کیپٹن صفدر کی ضمانت ، مسترد گذشتہ ماہ مریم کی پیشی کے دوران صفدر اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو نیب آفس کے باہر تشدد پر اکسانے کے معاملے کا سامنا ہے۔ تصویر: فائل لاہور (پ ر) لاہور کی سیشن عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے باہر فسادات کو بھڑکانے کے لئے مقدمہ درج ہونے والے کیپٹن (ر) صفدر سمیت مسلم لیگ (ن) کے 16 ارکان کی درخواست ضمانت جمعہ کو خارج کردی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کو چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے لہذا اب یہ سیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آرہا ہے۔ اس کے بارے میں ، صفدر کے وکیل نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی شقوں کو ایک سیاسی معاملے میں شامل کیا جارہا ہے۔" انسداد دہشت گردی کے الزامات میں اضافہ کے بعد عدالت نے صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر کارکنوں کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور تمام فریقوں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ گذشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے حامی اور پولیس بیورو کے دفتر کے باہر پرتشدد جھڑپوں میں ملوث تھے ، جہاں مریم نواز کو سرکاری اراضی کی غی...


جس طرح چڑیا گھر میں غفلت ہوئی لگتا ہے پوری ریاست ہی ایسے چل رہی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ


  جمعرات 27 اگست 2020


 ہ داروں کو کم از کم 2 گھنٹے شیر والے پنجرے میں بند ہونا چاہیے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ۔



 اسلام آباد: چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا ہے کہ جس طرح چڑیا گھر میں غفلت ہوئی لگتا ہے پوری ریاست ہی ایسے چل رہی ہے۔


اسلام آباد ہائیکورٹ میں چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت کیس سے متعلق سماعت ہوئی جس میں وزیر مملکت زرتاج گل اور معاون خصوصی ملک امین اسلم کی جانب سے سلمان اکرم راجہ پیش ہوئے، چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا جن کو شوکاز نوٹس جاری کئے ان کے جواب جمع ہوگئے، جانوروں کی ہلاکت افسوس ناک ہے اس سے پتہ چلتا ہے ملک کو کیسے چلایا ہے، آفیشلز ممبران نان آفیشلز پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں جب کہ جن کی ذمہ داری تھی وہ اپنی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔


اس خبر کو بھی پڑھیں : چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت؛ زرتاج گل کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ جب کچھ غلط ہو گیا تو وزارت نے کہا کہ ہمارا تو کوئی تعلق ہی نہیں، یہاں پر جانوروں کا کھانا بھی چوری ہوتا رہا ہے، بہت کچھ تھا جو ہم نے فیصلے میں نہیں لکھا وہ ہمارے لیے اور بھی شرمندگی کا باعث بنتا، یہاں جانوروں کے حوالے سے قوانین پر کوئی عمل کرنے کے لیے تیار نہیں، شہر کے بااثر طبقے نے یہاں نیشنل پارک کو تباہ کردیا ہے تاہم عدالت اس وقت شوکاز نوٹس جاری نہیں کر رہی۔


چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ کیوں نا جانوروں کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو انہی پنجروں میں بند کردیں، کم از کم 2 گھنٹے تو ذمہ داروں کو شیر والے پنجرے میں بند ہونا چاہیے، جس طرح چڑیا گھر میں غفلت ہوئی لگتا ہے پوری ریاست ایسے ہی چل رہی ہے، جو جانور تکلیف میں ہیں پہلے ان کی مشکلات کو دور کرنے کا بندوبست کریں۔


دوران سماعت وزیر اعظم کے معاون خصوصی امین اسلم اور وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے جواب کے لیے مہلت مانگ لی جس پر عدالت نے جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔

Comments

Popular posts from this blog