Image
 نیب آفس حملہ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے 15 دیگر کارکنوں کیپٹن صفدر کی ضمانت ، مسترد گذشتہ ماہ مریم کی پیشی کے دوران صفدر اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو نیب آفس کے باہر تشدد پر اکسانے کے معاملے کا سامنا ہے۔ تصویر: فائل لاہور (پ ر) لاہور کی سیشن عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے باہر فسادات کو بھڑکانے کے لئے مقدمہ درج ہونے والے کیپٹن (ر) صفدر سمیت مسلم لیگ (ن) کے 16 ارکان کی درخواست ضمانت جمعہ کو خارج کردی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کو چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے لہذا اب یہ سیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آرہا ہے۔ اس کے بارے میں ، صفدر کے وکیل نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی شقوں کو ایک سیاسی معاملے میں شامل کیا جارہا ہے۔" انسداد دہشت گردی کے الزامات میں اضافہ کے بعد عدالت نے صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر کارکنوں کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور تمام فریقوں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ گذشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے حامی اور پولیس بیورو کے دفتر کے باہر پرتشدد جھڑپوں میں ملوث تھے ، جہاں مریم نواز کو سرکاری اراضی کی غی...

 پریم کورٹ آف پاکستان میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی گئی
پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کروایا جائے، پارلیمانی نظامِ حکومت ناکام ہوچکا، عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ضروری ہوچکا ہے۔ چیئرمین ہم عوام پارٹی طاہر عزیز کی درخواست میں مئوقف
   ہفتہ 29 اگست 2020  15:28


سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی گئی
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 اگست 2020ء) سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی گئی، درخواستگزار نے مئوقف اختیار کیا کہ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کروایا جائے، پارلیمانی نظامِ حکومت ناکام ہوچکا، عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ضروری ہوچکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں پارلیمانی نظام اور جمہوریت مخالف سیاسی قوتوں نے صدارتی نظام کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔
چیئرمین ہم عوام پارٹی طاہرعزیز خان نے سپریم کورٹ میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی ہے۔ درخواستگزار نے مئوقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ پارلیمانی نظام حکومت عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے۔

درخواستگزار نے یہ مئوقف اختیار کیا کہ 90 فیصد پاکستانی عوام صدارتی نظام کے حق میں ہیں۔
عدالت سے استدعاہے کہ ملک میں ریفرنڈم کروانے کا موقع دیا جائے۔ 1973 کا آئین بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔ درخواست میں صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، الیکشن کمیشن سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا گیا ہے۔ واضح رہے حکمران جماعت کے حامی سمجھے جانے والے تجزیہ کاروں ہارون الرشید اور اینکر عمران خان نے بھی صدارتی نظام سے متعلق بات کی تھی۔
ہارون رشید کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ طے کر چکی ہے ملک میں صدارتی نظام لانا ہے۔ اینکر عمران خان نے بھی کہا تھا کہ ممکن ہے کہ پاکستان میں ایک ریفرنڈم کروایا جائے اور یہ ریفرنڈم کرونا کی وبا ختم ہونے کے بعد ہوسکتا ہے۔دوسری طرف سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں صدارتی نظام لانے کی باتوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا ہے کہ صدارتی نظام کسی صورت قابل قبول نہیں۔ حکومت اٹھارہویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ سے بھی باز رہے۔ اگر اٹھارہویں ترمیم پر نظرثانی کی بات کرنی ہے تو ہم تمام ٹیکس صوبوں کی جمع کرنے کا مطالبہ کریں گے، اس وقت چھ چھ وزیراعظم گھوم رہے ہیں اور یہ چلے ہیں صدارتی نظام لانے ، پلے نہیں دھیلا کردی میلہ میلہ ہے۔

Comments

Popular posts from this blog