Image
 نیب آفس حملہ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے 15 دیگر کارکنوں کیپٹن صفدر کی ضمانت ، مسترد گذشتہ ماہ مریم کی پیشی کے دوران صفدر اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو نیب آفس کے باہر تشدد پر اکسانے کے معاملے کا سامنا ہے۔ تصویر: فائل لاہور (پ ر) لاہور کی سیشن عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے باہر فسادات کو بھڑکانے کے لئے مقدمہ درج ہونے والے کیپٹن (ر) صفدر سمیت مسلم لیگ (ن) کے 16 ارکان کی درخواست ضمانت جمعہ کو خارج کردی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کو چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے لہذا اب یہ سیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آرہا ہے۔ اس کے بارے میں ، صفدر کے وکیل نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی شقوں کو ایک سیاسی معاملے میں شامل کیا جارہا ہے۔" انسداد دہشت گردی کے الزامات میں اضافہ کے بعد عدالت نے صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر کارکنوں کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور تمام فریقوں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ گذشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے حامی اور پولیس بیورو کے دفتر کے باہر پرتشدد جھڑپوں میں ملوث تھے ، جہاں مریم نواز کو سرکاری اراضی کی غی...

 متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کا 1972 کا قانون ختم کرنے کا فرمان جاری کر دیا

قانون کے خاتمے کے بعد متحدہ عرب امارات کے افراد یا دیگر کمپنیاں تجارتی یا کسی بھی نوعیت کے معاملات میں اسرائیل کے کسی بھی فرد یا اداروں کے ساتھ معاہدے کر سکتا ہے

   ہفتہ 29 اگست 2020  14:25

دبئی (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔29 اگست 2020ء) متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کا 1972 کا قانون ختم کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق 1972 میں بنائے گئے قانون کو ختم کر دیا ہے اور اب اس حوالے سے فرمان بھی جاری ہو چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد دونوں ممالک میں سفارتی، تحقیقی ، سائنسی اور طبی میدانوں میں رابطے بحال ہو چکے ہیں۔

اور اب صدر شیخ خلیفہ نے اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق دہائیوں پرانے فیصلے کو ختم کرنے کا وفاقی قانون جاری کیا۔یہ حکم اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعاون کو بڑھانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔

اس قانون کے خاتمے کے بعد متحدہ عرب امارات میں افراد یا دیگر کمپنیاں تجارتی یا کسی بھی نوعیت کے معاملات میں اسرائیل کے کسی بھی فرد یا اداروں کے ساتھ معاہدے کر سکتا ہے۔

جب کہ اس قانون کے خاتمے کے بعد متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی سامان ،مصنوعات کی ترسیل اور کاروبار جائز ہو گا۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خصوصی ٹوئٹس کیے گئے۔امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹس میں اعلان کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی ٹوئٹس میں معاہدے کا اعلامیہ شیئر کی گئیں۔ امریکی صدر اور میڈیا کی جانب سے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا گیا تھا۔ جبکہ غیر ملکی میڈیا دعویٰ کر رہا تھا کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں چلیں گی، جبکہ سفارتی سطح پر جلد مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

گیا، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور گارغش نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین براہ راست مذاکرات کی واپسی کی تجویز دی ہے کیونکہ فریقین ہی اس تنازعہ کے مستقل اور پائیدار حل تک پہنچنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معیشت، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون پر اتفاق ہوگیا۔

Comments

Popular posts from this blog