Image
 نیب آفس حملہ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے 15 دیگر کارکنوں کیپٹن صفدر کی ضمانت ، مسترد گذشتہ ماہ مریم کی پیشی کے دوران صفدر اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو نیب آفس کے باہر تشدد پر اکسانے کے معاملے کا سامنا ہے۔ تصویر: فائل لاہور (پ ر) لاہور کی سیشن عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے باہر فسادات کو بھڑکانے کے لئے مقدمہ درج ہونے والے کیپٹن (ر) صفدر سمیت مسلم لیگ (ن) کے 16 ارکان کی درخواست ضمانت جمعہ کو خارج کردی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کو چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے لہذا اب یہ سیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آرہا ہے۔ اس کے بارے میں ، صفدر کے وکیل نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی شقوں کو ایک سیاسی معاملے میں شامل کیا جارہا ہے۔" انسداد دہشت گردی کے الزامات میں اضافہ کے بعد عدالت نے صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر کارکنوں کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور تمام فریقوں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ گذشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے حامی اور پولیس بیورو کے دفتر کے باہر پرتشدد جھڑپوں میں ملوث تھے ، جہاں مریم نواز کو سرکاری اراضی کی غی...

              جرمن یونیورسٹی’ کچھ نہ کرنے کے‘ کے بدلے  ڈالر ادا کرے گی

ویب ڈیسک  ہفتہ 29 اگست 2020

 
یونیورسٹی آف فائن آرٹس، ہیمبرگ کے مطابق انتہائی حد تک بے کار بیٹھے رہنے والے تین افراد کو  ڈالر کی رقم دی جائے گی۔ فوٹو: فائل

ہیمبرگ: جرمنی کی ایک جامعہ نے ایک تجربے کے لیے ’ بے کاری فنڈ‘ دینے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت تین افراد کو کچھ نہ کرنے کے لیے 1900 ڈالر کی رقم دی جائے گی۔
یہ رقم ایک تحقیقی منصوبے کے تحت دی جارہی ہے جو ہیمبرگ میں واقع یونیورسٹی آف فائن آرٹس نے شروع کیا ہے۔ رقم لینے کے بعد رضاکاروں کو ’سرگرمی سے بے عمل ہونا‘ ہوگا۔ لیکن اس کی شرائط بھی بہت دلچسپ ہے۔
جامعہ نےکہا ہے کہ اس مقابلے میں شامل افراد کو اپنی بے کاری کا طریقہ منتخب کرنے کا پورا اختیار ہوگا لیکن جامعہ کے ماہرین ان میں سے بہترین کا انتخاب کریں گے۔
پروگرام کے سربراہ فریڈرک وان بوریس نے کہا کہ ’ کچھ نہ کرنا اور فالتو بیٹھے رہنا بہت آسان ہوتا ہے۔ لیکن ہم سرگرم بے سرگرمی کو جاننا چاہتا ہے۔ یعنی اگر آپ کہیں کہ آپ ایک ہفتے تک ساکت رہیں گے تو اچھا ہے، لیکن اگر آپ کہیں کہ ایک ہفتے تک نہ ہلوں گا اور نہ ہی کچھ سوچوں گا تو یہ اور بھی اچھا ہے۔
اس کے علاوہ درخواستگزار پر یہ چھوڑدیا گیا ہے کہ وہ کتنے عرصے تک بے کار رہنا چاہتا ہے۔
اگر آپ یہ کہیں کہ آپ بالکل نہیں سوئیں گے تو یہ چند دنوں تک ہی ممکن ہے۔ لیکن اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ خریداری نہیں کریں گے تو اس کام کا دورانیہ طویل ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہر فرد سے بے کار رہنے کی تفصیلات ایک مسودے کی صورت میں مانگی گئی ہیں۔
لیکن جامعہ کی شرط ہے کہ یہ رقم آپ کو اس وقت ملے گی جب آپ اپنے تجربات کی تفصیلی رپورٹ اگلے سال جنوری کے وسط تک جمع کروائیں گے۔ خواہ آپ کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام آپ کو رقم ضرور ملے گی۔ پھر آپ کے تجربات کو ایک نمائش کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔
ماہرین نے کہا ہےکہ یہ کوئی فضول کام نہیں بلکہ ایک سنجیدہ تجربہ بھی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog