نیب آفس حملہ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے 15 دیگر کارکنوں کیپٹن صفدر کی ضمانت ، مسترد گذشتہ ماہ مریم کی پیشی کے دوران صفدر اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو نیب آفس کے باہر تشدد پر اکسانے کے معاملے کا سامنا ہے۔ تصویر: فائل لاہور (پ ر) لاہور کی سیشن عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے باہر فسادات کو بھڑکانے کے لئے مقدمہ درج ہونے والے کیپٹن (ر) صفدر سمیت مسلم لیگ (ن) کے 16 ارکان کی درخواست ضمانت جمعہ کو خارج کردی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کو چارج شیٹ میں شامل کیا گیا ہے لہذا اب یہ سیشن کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آرہا ہے۔ اس کے بارے میں ، صفدر کے وکیل نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی شقوں کو ایک سیاسی معاملے میں شامل کیا جارہا ہے۔" انسداد دہشت گردی کے الزامات میں اضافہ کے بعد عدالت نے صفدر اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر کارکنوں کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی اور تمام فریقوں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ گذشتہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے حامی اور پولیس بیورو کے دفتر کے باہر پرتشدد جھڑپوں میں ملوث تھے ، جہاں مریم نواز کو سرکاری اراضی کی غی...
- Get link
- X
- Other Apps
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل بینکنگ، شرائط مشکل
اتوار 30 اگست 2020 13:11

پاکستان کی حکومت کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بیرون ملک سے ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت تو فراہم کی گئی ہے، تاہم بیرون ملک پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کے لیے جو شرائط رکھی گئی ہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈیجیٹل بینکنگ کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی وطن واپس آئے بغیر مکمل آپریشنل بینک اکاؤنٹ کھلوا سکیں گے۔ بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے بنیادی معلومات اور دستاویز آن لائن فراہم کرنا ہوں گی۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پاکستانی بینکنگ کا جدید ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم فراہم کیا جائے گا۔ فنڈز ٹرانسفر، بل پیمنٹ اور ای کامرس سمیت تمام بنیادی بینکنگ سروسز بھی دستیاب ہوں گی۔
منصوبے کے تحت اوورسیز پاکستانی سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرنے کے اہل ہوں گے۔ بینکوں کی جانب سے فکس ڈیپازٹ پراڈکٹس کی آفرز سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔ رہائشی یا کمرشل پراپرٹی کی خریداری کے لیے براہ راست ٹرانزیکشن کی سہولت مل سکے گی۔ اوورسیز پاکستانی اپنی مرضی سے مقامی یا فارن کرنسی میں اکاؤنٹ کھلوا سکیں گے اور وہ جس وقت چاہیں اپنا سرمایہ بغیر پیشگی اجازت نکال سکتے ہیں۔
بینک کھولنے کے لیے کام کا کنٹریکٹ،3 مہینے کی سیلری سلپ، 5 ہزار روپے کا چیک اس شخص سے جس کا اس برانچ میں اکاؤنٹ ہو اور پاکستان میں تمام اثاثوں کے ثبوت کے دو لاکھ روپے کے ابتدائی ڈیپازٹ جیسی شرائط چند لوگ تو پوری کر سکتے ہیں مگر یہ عام شہری کے بس کی بات نہیں ہے۔
سعودی عرب میں مقیم افضال احمد نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ 'خلیجی ممالک میں بہت سی کمپنیاں لیبر طبقے کو سیلری سلپ نہیں دیتیں۔ اس کے علاوہ لیبر طبقے کو سیلری سلپ بھی نہیں ملتی۔ اس لیے یہ دونوں شرطیں ختم کر کے پاسپورٹ پر ورک ویزہ ہونے کی شرط عائد کی جائے تو آسانی ہو جائے گی۔ یا پھر بیرون ملک بینک کی وہ سٹیٹمنٹ تسلیم کر لی جائے جو بینک ہمارے موبائل پر بھیجتے ہیں۔'
متحدہ عرب امارات میں رہنے والے یاسر کلیم کا کہنا تھا کہ 'تمام دستاویزات ایمبیسی سے تصدیق شدہ ہونے کا کہا گیا ہے جبکہ ان میں بہت سی دستاویزات تو نادرا سے جاری ہوتی ہیں جن کی آن لائن تصدیق ہو سکتی ہے۔ جب ایک فرد بیرون ملک رہ رہا ہے تو اس کی آمدن کا یہی ثبوت کافی ہے اس لیے آمدن کا ثبوت فراہم کرنے کی شرط ختم کی جائے۔'
ڈیجیٹل بینکنگ میں اکاؤنٹ کھولنے، بیرون ملک سے بیٹھ کر اکاؤنٹ آپریٹ کرنے
اور سرمایہ کاری کی اجازت تو ہے تاہم بیرون ملک مقیم پاکستانی بینک سے قرضہ وغیرہ لینے کی سہولت سے محروم ہیں۔
اس حوالے سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری ریحان احمد نے کہا کہ اگر سہولت فراہم کرنی ہی ہے تو ایسے ہی کی جائے جیسے پاکستان میں شہریوں کو حاصل ہے کہ ہم بھی بینک سے گھر اور گاڑی کے لیے قرضہ لے سکیں اور کریڈٹ کارڈ کی سہولت بھی فراہم کیا جائے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اتنے امیر نہیں ہیں کم از کم مزدور طبقے کو یہ سہولیات دینی چاہئیں۔'
متعدد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے وہ بینک اکاؤنٹس جو انھوں نے پاکستان میں کھولے لیکن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے وہ بلاک ہو چکے ہیں اور ان میں رقوم بھی موجود ہیں، تاہم بینکوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ وہ صرف ایک ہی صورت میں فعال ہوسکتے ہیں کہ ہم پاکستان جا کر متعلقہ بینک کی برانچ وزٹ کریں اور متعلقہ دستاویزات بھی فراہم کی جائیں۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت کے تحت انھیں اپنے یہ اکاؤنٹ بحال کرانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
بیرون ملک پاکستانیوں نے موجودہ بینکنگ نظام کے حوالے سےبھی کافی شکایات کی ہیں جن میں خاص طور پر بینکوں کی جانب سے بھیجے گئے زرمبادلہ اہل خانہ کو دینے میں تاخیری حربے، بینکوں کے عملے کی جانب سے غیر شائستہ رویے اور اے ٹی ایم کارڈ وغیرہ کی اہل خانہ کو عدم فراہمی شامل ہیں۔
سعودی عرب میں رہنے والے نذیر احمد نے اردو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ 'ہم کوشش کرتے ہیں کہ سرکاری بینک میں پیسے بھیجیں لیکن پاکستان میں جو بینک سٹاف ہے ان کے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے دو چار چکر ضرور لگواتے ہیں چاہے بینک گھر سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو اکثر تو بات ہی نہیں سنتے. باقی بینکوں کی حالت بھی مختلف نہیں ہے۔'
کویت میں مقیم محمد نوید نے کہا کہ 'جب ہم گھر اپنوں کو پیسے بیجتے ہیں اور ہمارے گھر والے بینک جائیں تو بینک والے کہتے ہیں آج پیسے نہیں آئے کل آنا اور اس طرح کے بعض اوقات کئی دن لگا دیے جاتے ہیں جبکہ پیسے یہاں سے بیجنے کے پندرہ منٹ بعد پاکستان ملنے چاہئیں۔ بینک والوں کا رویہ اچھا بھی نہیں ہوتا۔ یہی پیسے اگر ہنڈی سے بھیجتے تھے تو فوری طور پر مل جاتے تھے۔'
متحدہ عرب امارات میں مزدوری کرنے والے پاکستان اختر علی نے کہا کہ ’اگر غلطی سے کچھ رقم بچا کر بینک میں رکھ دیں تو اس کو نکلوانے پر ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے، جیسے ہمیں بچت کرنے کی سزا دی گئی ہو۔ اب ہم پیسے تکیوں میں جمع کرنے سے تو رہے۔ یہ جگا ٹیکس ختم ہونا چاہیے کہ اپنی رقم نکلوانے پر بھی جرمانا دینا پڑتا ہے۔‘
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کی سہولت کے ساتھ ساتھ ایک سال میں مخصوص رقم بھیجنے والوں کا ایئرپورٹ ٹیکس معاف اور ایک گاڑی اور ایک موبائل لے جانے کی اجازت دینی چاہیے۔
- Get link
- X
- Other Apps
Popular posts from this blog
شفقت محمود نے اکتوبر تک بند رہنے والے اسکولوں کی 'جھوٹی خبروں' کی تردید کی منسٹر کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے دوبارہ آغاز کے بارے میں حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو صوبائی وزیر تعلیم کے اجلاس میں لیا جائے گا۔ تصویر: فائل اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے جمعہ کو اس "غلط خبر" کی تردید کی ہے کہ ملک بھر کے اسکول اکتوبر تک بند رہیں گے ، انہوں نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کے افتتاح کے فیصلے کو وزرائے تعلیم کے اجلاس کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔ محمود نے ٹویٹر پر واضح کیا ، "میرے نام پر کچھ جعلی اکاؤنٹ غلط خبریں پھیلارہے ہیں کہ اسکول اکتوبر تک بند رہیں گے۔ یہ سچ نہیں ہے۔" وزیر موصوف نے یہ بھی کہا کہ اسکولوں کے دوبارہ کھولنے کے بارے میں حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو صوبائی وزیر تعلیم کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 15 ستمبر سے مرحلہ وار تعلیمی اداروں کے افتتاحی امکانات کا امکان ہے۔ حکومت دوبارہ کھلنے کے بعد اسکولوں کے لئے جانچ کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے بدھ کے روز ، یہ اطلاع ملی تھی کہ حکومت 15 ستمبر کو دوبارہ متوقع طور پر دوبارہ کھلنے کے بعد تعلیمی اداروں کے ل...
پریم کورٹ آف پاکستان میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی گئی پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کروایا جائے، پارلیمانی نظامِ حکومت ناکام ہوچکا، عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ضروری ہوچکا ہے۔ چیئرمین ہم عوام پارٹی طاہر عزیز کی درخواست میں مئوقف ہفتہ 29 اگست 2020 15:28 سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی گئی اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔29 اگست 2020ء) سپریم کورٹ آف پاکستان میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی گئی، درخواستگزار نے مئوقف اختیار کیا کہ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کیلئے ریفرنڈم کروایا جائے، پارلیمانی نظامِ حکومت ناکام ہوچکا، عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ضروری ہوچکا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں پارلیمانی نظام اور جمہوریت مخالف سیاسی قوتوں نے صدارتی نظام کیلئے کوششیں شروع کر دی ہیں۔ چیئرمین ہم عوام پارٹی طاہرعزیز خان نے سپریم کورٹ میں صدارتی نظام کیلئے درخواست دائر کردی ہے۔ درخواستگزار نے مئوقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے صدارتی نظام ناگ...
عمران خان "مین آف دی ائیر"۔۔۔۔ مسلم دنیا کی 500 اہم شخصیات کی فہرست جاری کردی گئی! اردن کے رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی جانب سے گزشتہ 11 سالوں سے اہم 500 مسلم شخصیات کی فہرست ہر سال باقاعدگی سے جاری کی جاتی ہے۔ جس میں مسلم دنیا کے مختلف شعبوں جیسے سیاسی، مذہبی، سماجی ،ذرائع ابلاغ ودیگرشعبوں میں گراں قدرخدمات انجام دینی والی اہم شخصیات کے ناموں کو چنا جاتا ہے اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی اس ادارے کی جانب سے 500 اہم مسلم شخصیات کہ فہرست جاری کردی گئی ہے ۔ جس میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو "مین آف دی ائیر" قرار دیا گیا ہے، جبکہ "وومن آف دی ائیر " کا اعزاز امریکن کانگریس کی رہنما راشدہ طالب کے نام رہا۔ گزشتہ دنوں دنیا بھر کے500 بااثرترین مسلم شخصیات کی ایک فہرست کتابی شکل میں جاری کردی گئی ہے۔اس فہرست میں سب سے پہلے نمبر پر پاکستان کے عالم دین شیخ محمد تقی عثمانی ہیں۔اس فہرست میں ایران کے آیت اللہ خامنہ ای، ابوظہبی کے ولی عہد اور ڈپٹی کمانڈر فوج شیخ محمد بن زائد النہیان،خادم حرمین شریفین کنگ سلمان بن عبدالعزیز ،ترکی ک...

Comments
Post a Comment